اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسپین نے شمالی افریقہ میں واقع اپنے زیرِ انتظام شہر سبتہ میں پولیس اور فوج کی نفری بڑھا دی ہے، جبکہ فوجی اہلکار تجارتی مراکز اور سرکاری عمارتوں کے اطراف تعینات کیے گئے ہیں۔ شہر کی مرکزی سڑکوں پر پولیس کی گشت بھی بڑھا دی گئی ہے۔
دوسری جانب مراکش نے بھی سرحدی علاقے الفنیدق میں سکیورٹی اہلکار تعینات کیے ہیں، جہاں سے تارکین وطن نے اس سے قبل سبتہ میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔
رپورٹ کے مطابق 30 جولائی کو تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد نے سبتہ میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس کے دوران کم از کم 96 افراد ہلاک ہوئے۔ اسپین کے سرکاری اندازے کے مطابق 72 ہزار سے زیادہ افراد اس علاقے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے، تاہم ان میں سے بیشتر کچھ ہی دیر بعد رضاکارانہ طور پر مراکش واپس چلے گئے۔
اس واقعے کے بعد اسپین نے سمندر میں ایک رکاوٹ قائم کرنے کے ساتھ سرزمین اسپین سے 500 سے زائد سکیورٹی اہلکار سبتہ بھیجے تھے۔ اسپین کے وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ یہ اہلکار حالات معمول پر آنے تک علاقے میں موجود رہیں گے۔
ادھر مراکشی حکام نے سوشل میڈیا پر 15 اگست کو تارکین وطن کی اجتماعی سرحدی نقل و حرکت سے متعلق گمنام پیغامات اور اپیلوں کی نگرانی شروع کردی ہے۔ مراکشی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث منتظمین اور شرکا کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اسپین اور مراکش نے سبتہ اور ملیلیہ جانے والے راستوں پر بھی سکیورٹی اقدامات مزید سخت کردیے ہیں۔ مراکشی حکام نے بعض تارکین وطن گروہوں کو ٹرین اور بس کے ذریعے شمال کی جانب جانے سے بھی روکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تقریباً 5 ہزار تارکین وطن اب بھی سبتہ میں موجود ہیں اور اسپین نے بالغ افراد کی صورتحال اور پناہ کی درخواستوں کی جانچ شروع کردی ہے۔ اب تک جانچ کی جانے والی 500 سے زائد پناہ کی درخواستوں میں سے بیشتر مسترد کردی گئی ہیں۔
اسپین کے مطابق غیر قانونی طور پر سبتہ میں داخل ہونے والے افراد کو، کمزور اور خصوصی تحفظ کے مستحق افراد کے علاوہ، وہاں قیام یا سرزمین اسپین منتقل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ قانونی رہائش کے اہل نہ ہونے والے افراد کو مراکش واپس بھیجا جائے گا۔
آپ کا تبصرہ